Monday, February 3, 2014

بھاگ لگے رہن ، بادشاہیاں سلامت رہن


تحریر: نصیر جسکانی


چند دن پہلے جناب عرفان صدیقی صاحب کا ایک کالم روز نامہ جنگ بعنوان " ملا فضل اللہ کی زندگی کے روشن پہلو" نظر سے گزرا جس کو دیکھ کر کچھ ایسا محسوس ہوا کہ پنجاب کی شادیوں میں کبھی کبھار مراثی یا بھانڈ آ کر دولہا صاحب کی شان و شوکت میں لوگوں کے سامنے قصیدے اور جھوٹی تعریفوں کے پل کچھ ان انداز سے بندھتے ہیں " بھاگ لگے رہن ، بادشاہیاں سلامت رہن"  ہو سکتا ہے دولہا بے چارمزدور ہو یا نیکھٹو مگر بھانڈ کی نظر میں وہ بادشاہ ہی ہوتا ہے کیونکہ بھانڈ کی روزی روٹی دولہا صاحب کے نام نہاد روشن پہلو اجاگر کرنی پے موقوف ہوتی ہے ۔ اب کچھ بات ہو جاۓ ملا صاحب کی زندگی کے ان روشن پہلووں کی جو جناب عرفان صدیقی صاحب کے قلم سے تراشے گئے ہیں۔ پہلا روشن پہلو یہ ہے کہ "ملا کا دل موم کی مانند نرم و ملائم ہے"۔ عجیب منطق ہے کہ ایک ایسے شخص کا دل موم کی طرح ہے جس کی گردن پر سیکڑوں معصوم بچوں اور لوگوں کا خون ہے، جس شخص میں ذرہ برابر انسانیت کی رمک نہیں ہے جس نے سوات جیسی جنت النظریر وادی کو ایک اپنی خود ساختہ شریعت جس کا عنوان قتل و غارت سے تعبیر ہے کو آگ و خون میں غلطاں کر دیا ۔ دوسرا روشن پہلو جوعرفان صدیقی صا حب نے بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ " ملا مرد حق، مرد درویش اور مرد مومن ہے"، سبحان اللہ کیا عقل و بصیرت پائی ہے جناب عرفان صدیقی صاحب نے جبکہ قرآن مجید پکار پکار کر کہہ رہا ہے جس نے ایک بے گناہ شخص کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا ، ملا موصوف کی درندگی کی داستانیاں زبان زد عام ہیں ، ایسا شخص مرد حق، مرد مومن، مرددروش شاید صدیقی صاحب کی نظر میں تو ہو سکتا ہے مگر عدالت والے رب کے حضور اور منصف مزاج انسانی اذہان میں کبھی نہیں۔ تیسرا روشن پہلوجو حضرت عالی جناب عرفان صدیقی صاحب زیب قرطاس کرتے ہیں کہ "ملا صاحب ایک ہیرا ہے اور جس کی چکا چوند سے پوری دنیا روشن ہو سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اگر عرفان صدیقی صاحب ملا موصوف کو تراش لیں تو یہ ہیرا پوری کائنات کا گوہر بن سکتا ہے"، اگر کسی قوم میں ایسے ہیرے دو چار اور پیدا ہو جائیں تو پھر اس قوم کی حالت پے فاتحہ ہی پڑھ لینی چاہیے۔ ایسا ہیرہ جس کی نظر میں معصوم بچوں اور بچیوں جن کو یہ بھی شعور نہیں ہوتا کہ دشمنی کیا ہوتی ہے نفرت کیا چیز ہے کو موت کی گھات اتار دینا اور ان کے سکولوں کو دھماکوں سے اڑا دینا ، پولیو اور دیگر جان لیوا بیماریوں کے بے رحم منہ میں دھکیل دینا عین اسلام کی خدمت ہے۔ عرفان صدیقی کی نظر میں چوتھا اور آخری بڑا کار نامہ یہ ہے کہ ملا موصوف نے پاکستان میں جس درندگی اور سفاکیت کا مظاہرہ کیا ہے اس بے نظیر کام نے پوری دنیا میں گم نام ملک پاکستان کو شاندار انداز میں روشناس کروا دیا ہے اور اب پاکستان ملا موصوف کی وجہ سے پوری دنیا کیلئے ایک روشن مینارہ بن کر ابھرا ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ جو لوگ  حکومت کی طرف سےمزاکراتی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں وہ سب دہشتگردوں کی کارروائیوں کے کبھی متاثرین میں سے نہیں رہے بلکہ تمام حضرات کئی سالوں سے طالبان کی دہشتگرد کارروائیوں کا پورے انہماک کے ساتھ دفاع کرتے رہے ہیں۔ لیکن  افسوس صد افسوس کہ عرفان صدیقی جسکی شخصیت  کوکچھ  تجزیہ نگاروں فہم و فراست سے تعبیر کرتےآۓ ہیں مجھے ان کی عقلوں پے ماتم کرنا آ رہا ہے۔ میری ناقص راۓ میں حکومت کے مزاکرت انسانی اقدار، بین الااقوامی اصولوں ،اسلامی تعلیمات، آئین پاکستان اور شہریوں حقوق کی صریحاٰ خلاف ورزی ہے۔ حکومت وقت ایک ایسی سنگین غلطی کی مرتکب ہو رہی ہے اگر مظلوم شہری اپنے دفاع اور انصاف کیلۓ  خود اٹھ کھڑے ہوۓ تو جس کا نتیجہ خاکم دہن خانہ جنگی پر منتج ہو سکتا ہے۔ انصاف کا تقاضہ یہ ہے مسلح گروپ کو پہلے غیر مسلح کیا جاتا پھر آئین پاکستان کی رو سے انصاف کے تقاضوں کی روشنی میں مزاکرت کیے جاتے تو بات سمجھ میں آتی۔  لیکن پاکستان کی اکثریت عوام کے مطالبے اور آئین پاکستان کے بر خلاف طالبان کی سوچ کے حامل ریاستی افراد کو مزاکرتی ٹیم میں شامل کر کے ان انسان نما درندوں سے اگر مزاکرات کیے جاتے ہیں تو پھر  پیارےوطن  پاکستان کا مستقبل کیا ہو گا ،  میں یہ فیصلہ آپ قارائین پر چھوڑتا ہوں۔   

No comments:

Post a Comment