Saturday, February 8, 2014

یہ کیسا جہادہے؟



تحریر: ںصیر جسکانی

دو دن قبل شام میں حضرت محمد کے نواسے اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی پیاری ننھی بیٹی حضر ت بی بی سکینہ  کے دمشق میں واقع مزار پر کئی راکٹ فائر کر کے مزار کے طلائی گنبد کوشہید کر دیا گیا۔ جب یہ خبر میری سماعت سے ٹکرائی تو میں ایک لمحہ کیلۓ دم بخود رہ گیا۔ یہ عیظم المرتبت ہستیاں جو اسلام کا سرمایہ ہیں ،بقاۓ دین کی علامت ہیں اورجو اسلام کی پہچان ہیں کو اس بے دردی کے ساتھ مہندم کیا جاۓ ۔  حضرت محمد مصطفے نے اپنی اہلبیت کیلۓ فرمایہ تھا کہ "اے مسلمانوں میں تم سے کوئی اجرت رسالت نہیں مانگتا ، ہاں مگر تم لوگ میرے اہلبیت سے مودت کرنا"۔ مسلمان تو  وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ لیکن میں حیران ہو ں یہ کیسا اسلام  ہے جس میں میں خود اسلام کی عظیم المرتبت ہستیوں کے مزارات محفو ظ نہیں۔ اگر شام کے حالات پر نظر ڈالی جاۓ تو معلوم یہ ہوتا ہے  وہاں خانہ جنگی کی آڑ میں دنیا بھر سے دہشتگردوں کو اکھٹا کیا گیا ہے جس سے پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔  اور تو اور اب کچھ یورپی ممالک بھی اس خطرے کا احساس کر رہے ہیں حتی کہ سپین نے تو یہاں تک کہ دیا ہے  شام میں دہشتگردوں کی موجودگی سے ان کا ملک متاثر ہو رہا ہے۔  شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے جنہیں اکثر عربی و غربی میڈیا مجاہدین یا باغی کا نام دیتا آیا ہے اب خود ان ممالک کو ان دہشتگردوں سے خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔  دہشتگردی کی ان کارروئیوں کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کو مختلف مذاہب خاص کر عیسائی اور مسلمانوں کے مذہبی اور مقدس مقامات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل شام کے شہر   معلولہ  جہاں عیسائی اکثریت  میں ہیں وہاں عیسائیوں کے چرچوں کو جلا دیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ  شام کے دیگر شہروں  میں مسلمانوں کے مقدس مقامات جن میں حضرت محمد کے صحابی حجر بن عدی کی قبر اطہر کو پامال کیا گیا اور ان کے جسد پاک کی بے حرمتی کی گئی ، حضرت خالد بن ولید کے مزار کی بے حرمتی، رسول پاک کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر طیار کے مزار کو آگ لگائی گئی، تاریخی مسجد بنو امیہ کو پامال کیا گیا اور دمشق میں ہی حضرت بی بی زینب سلام علیہ کے مزار پر حملہ کیا گیا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو منہدم کرنے والوں میں وہ دہشتگرد گروہ شامل ہیں جو اسلام میں تفرقہ ایجاد کرنے کے موجد ہیں ۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالی جاۓ تو 1924 میں جب ترکوں کی سلطنت عثمانیہ جو کہ مسلمانوں خاص طور پر عرب مسلمانوں کی اتحاد کی مظہر تھی کو برطانوی سامراج کی سرپرستی اور مکارانہ کردار کی بنا پر ختم کردیا گیا اور آل سعود نے نجد میں اپنی حکومت کا اعللان کرنے کے ساتھ ہی مسلمانوں کے مقدس مقامات خصوصا" آل رسول کے مزارت کو منہدم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ اگر اسی تناظر میں دیکھا جاۓ تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شام میں حکومت کے خلاف  برسر پیکار گروہوں کو سعودی حکومت پر پور عسکری، مالی اور سفارتی امداد پہنچا رہی ہے۔  حال ہی میں  روس ،عراق،لبنان اور شام نے سعودی حکومت اور خاص طور پر سعودی انٹیلجنس کی شکایت اقوام متحدہ  سےکی ہے کہ سعودی حکومت ان ممالک میں دہشتگردوں کی  مختلف کارروئیوں میں معاونت کر رہی ہے۔ جبکہ ان ممالک کے برعکس پر امن ملک پاکستان کے وزیر اعظم جناب نواز شریف نے سعودی شاہی خاندان کی احسان مندی کا پورا پورا حق ادا کرتے  ہوۓ سعودی عرب کو مسلمان ممالک کیلۓ رول ماڈل قراد دے رہے ہیں  جو کہ بہت حیران کن بات ہے۔  امکان قوی  ہے کہ طالبان کے ساتھ مزاکرت بھی اسی رول ماڈل کی ایما پر ہو رہے ہیں۔  پوری دنیا یہ بات  باخوبی جانتی ہے کہ مسلمان ممالک (جن میں عراق، لبنان ، یمن ، افغا نستان ، پاکستان، صومالیہ،  کئی افریقی اور عرب ممالک  شامل  ہیں) میں بد امنی اور دہشتگردی کرنے والی قوتیں ایک ہی تفکر کی حامل ہیں۔ ظاہرا"  یہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام کے نفاد مطالبہ کرتی  ہیں مگر ان کا عمل صریحا" اسلام کے بر خلاف ہے ۔ یہ قوتیں اپنی سفاکانہ اور دہشتگردانہ  کارروئیوں کو اسلامی جہاد کا نام دیتی ہیں مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ کیسا جہاد ہے جس کے ذریعے  اسلامی ممالک کو کمزور کیا جاۓ  ، شعائر اللہ کی توہین کی جاۓ ،  مسلمانوں کے مقدس مقامت کی بے حرمتی کی جاۓ اور بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا جاۓ۔  اب وقت آ گیا ہے کہ اس غیر انسانی عمل کا ارتکاب کرنے والی قوتوں اور ان کے سرپرستوں کو ان اٹھنے والےان سوالات کا جواب دینا پڑے گا۔ 

No comments:

Post a Comment