Saturday, February 22, 2014

ملک و قوم کی بھلائی



ملک و قوم کی بھلائی


طالبان اور حکومت کی طرف سے مزاکرات کی خبریں آج کل میڈیا میں خوب گرم ہیں اور طالبان اپنی خود ساختہ شریعت کے نفاد اور دیگر شرائط کے پر عمل درآمد کے مطالبات کے ساتھ ساتھ خود کش بم دھماکوں کا سلسلہ شروع رکھے ہوۓ ہیں جس میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ملک کی مسلح افواج پر حملوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس کے باوجود حکومت وقت مزاکرات کو مثبت قرار دے رہی ہے اور پی ٹی آئی کے چیئرمین اور طالبان کے مزاکرتی نمائندے جناب عمران خان طالبان کی وکالت کا سلسلہ پورے انہماک کے ساتھ جاری و ساری رکھے ہوۓ ہیں۔ طالبان نے اپنی خود ساختہ شریعت کا آغاز سنی اور شعیہ پاکستانی  عوام پر پہلے ہی کفر اور شرک کے فتوی دے کر  اور ان کی قتل و غارت کر کے کافی عرصے سے شروع کیا ہوا ہے لیکن مزاکرات کے نتیجے میں اب ایک دھمکی آمیز  پچاس منٹ کی ویوڈ منظر عام پر آئی ہے جس میں چترال کی حسین و جمیل وادی کیلاش میں صدیوں سے بسنے والی کیلاش کیمونٹی اور اسماعیلی فرقے سے وابستہ افراد کو براہ راست دھمکی دی گئی ہے کہ وہ طالبانی اسلام کو قبول کر لیں ورنہ مرنے کے کیلئے تیار ہو جائیں۔ کیلاش کیمونٹی جس کی تعداد انداز'' تین سے چار ہزار کے قریب ہے اور کیلاش کیمونٹی جو کہ غیر مسلم ہے اور اپنے آپ کو سکندر اعظم کے خاندان سے گردانتی ہے اور یہ لوگ بہت پر امن اور پاکستان کے حسین چہرہ ہیں جو اپنے کیلاشی کلچر کی بدولت پوری دنیا کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے چلے آ رہے ہیں ۔ چترال میں مختلف قبائلی ایجنسویوں سے ہجرت کر کے آنے والے کچھ جرائم پیشہ خاندان آ کر اس وادی کے آس پاس آباد ہو چکے ہیں جو کیلاش کیمونٹی کی جوان لڑکیوں کو اغواء کرنے کے ساتھ ساتھ چوری اور واردتوں میں بھی ملوث ہیں۔ یہ کیمونٹی جو پہلے ہی جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے شدید متاثر ہے اب رہی سہی کسر درندہ صفت طالبان پوری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یہ مزاکرات کے دوران ہی شریعت کے عملی نفاز کی شروعات ہیں۔  اسماعیلی فرقہ جو باکثرت چترال اور گلگت میں آباد ہے وہ بھی طالبان کی دھمکی کی زد میں آ چکا ہے۔ کیلاش اور اسماعیلی کیمونٹی میں اس وقت شدید خوف کے عالم میں ہیں اور کافی سارے خاندان دیگر ممالک کی طرف ہجرت کر چکے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جب برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی الگ شناخت کے لیے سیاسی جماعت مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں ڈھاکہ میں رکھی تو اس کے پہلے سربراہ ایک اسماعیلی فرقہ سے تعلق رکھنے والے فرد جناب سر آغا خان سوئم بنے جس نے مسلم لیگ کی بنیاد ڈال کر  عملا' برصغیر میں  مسلمان کی ایک سیاسی  پہچان  پیدا کی۔  جب پاکستان بنا تو گلگت اور بلستان کے لوگوں نے کیپٹن حسن اور میجر بابر کے ہمراہ مسلح جہدو جد کر کے  کشمیر کی ڈوگرہ ریاست سے اپنی آزادی کو حاصل کیا اور اس آزادی کو حاصل کیے بیس دن ہی گزرے تھے کہ گلگت و بلستان کے مسلمانوں  نے جس میں شعیہ اور اسماعیلی فرقے کی اکثریت  تھی نے  پاکستان کے ساتھ الحاق کر کیا۔ اسماعیلی آبادی کی بڑی ریاستیں  جن میں سر فہرست  ہنزہ  اور نگر شامل ہیں ، ان ریاستوں نے بھی نوزائیدہ ملک پاکستان کے ساتھ اپنا الحاق کا اعلان کیا۔ اسماعیلی مسلمانوں نے پاکستان کی ترقی و خو شحالی کے کیلۓ عظیم خدمات دی ہیں جن میں آغا خان فائڈیشن ، آغاخان ہستپال اور میڈیکل یونیورسٹی جیسےمثالی اداروں کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ طالبان نے کیلاش اور اسماعیلی کیمونٹی جو دل و جان سے پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں کو براہ راست دھمکی دی ہے کہ وہ جیسے طالبان چاہیے ہیں ویسے مسلمان بن جائیں اور آغا خان فائڈیشن اپنے رفاہی کام بند کر دے اور پاکستانی غریب لڑکوں اور لڑکیوں کے سکول جو فائڈیشن کے تحت چل رہے ہیں سب بند کر دیئے جائیں۔ اگر مزاکرات کا مطلب یہ ہے کہ طالبان کو کھلی چھٹی دے دی جاۓ کہ وہاں جہاں چاہیں کارروائی کر گزریں اور جہاں چاہیں دھمکی دیتے پھریں اور کوئی پوچنے والا نہ ہو ۔ تو پھر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حکومت اپنی آئینی و قانونی حیثیت کھو چکی ہے اور اس ملک پر اسے حکمرانی کرنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہ جاتا ہے وہ ملک کے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں نام ہو جاۓ۔ لہذا حکومت وقت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور ان دھمکیوں کو سنجیدہ لینا چاہیے اور نام نہاد مزاکرات کا ڈھول پیٹنے کی بجاۓ حقیقی معنوں میں پاکستان کے شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا چاہیے اور ایسے عناصر جو دہشتگردی میں ملوث ہیں ان لوگوں کے ساتھ  بروقت آہنی ہاتھوں سے نمٹنا  کی ضرورت ہے۔ اسی میں ہی ملک و قوم کی بھلائی ہے۔  

No comments:

Post a Comment