میرٹ ہو تو ایسا اور اصول
ہو تو ایسا
مسلم لیگ (ن) نے الیکشن 2013 میں بہت بلند و بانگ
دعووں کے ساتھ اپنی انتخابی مہم کا آغار کیا اور پنجاب کے خادم اعلی قومی اخبارات
میں اپنی حکومتی کارکردگی کے اشتہارات میں دو باتوں کا تذکرہ بڑی شدومد کے
ساتھ کرتے نظر آتے تھے۔ اشتہارات میں بڑے میاں صاحب کی تصویر کے ساتھ
لکھا ہوتا تھا " بات اصول کی" اور چھوٹے میاں صاحب کی تصویر کے ساتھ یہ
الفاظ درج ہوتے تھے " میرٹ اور صرف میرٹ"۔ پنجاب کی جذباتی قوم ان
دلفریب نعروں پر دل فریفتا ہو ئی اور الیکشن میں دل کھول کر میاں صاحبان کو بھاری
مینڈیٹ کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچا دیا۔ اب قوم مطمن ہو گئی کہ قوم کا عظیم نجات
دہندہ میاں نواز شریف صاحب اس دہشتگردی، مہنگائی اور بیروز گاری سے پسی ہوئی عوام کو چند دنوں میں پرسکون اور آسودہ حال زندگی کی راہوں پر گامزن کر
دے گا اور پوری دنیا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھے
گی۔ اب جبکہ عوامی حکومت کو تقریبا" ایک سال ہونے کے قریب ہے، کسی ایک دعوی
کی بھی تکمیل ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی بلکہ دہشتگردوں کو مزاکرات کی آڑ میں قتل و غارت گری کا عملا" سرکاری لا
ئیسنس دے دیا گیا ہے ، پہلے سے بیرونی قرضوں تلے دبی قوم کو مزید
قرضوں میں دبایا جا رہا ہے اور مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کی بجاۓ مزید ٹیکسوں اور قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے اس
جذباتی قوم کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے اور سفید
پوشی کا بھرم رکھنا در کنار ہوتا جا رہا ہے۔ اب بات ہو جاۓ اصول اور عدلیہ کی
آزادی کی دعوی دار مسلم لیگ (ن) کی۔ جس نے اقتدار میں آتے ہی
مختلف محکموں کے سر برہان کے ساتھ پنگے لینا
شروع کر دیئے۔ جس کا آغاز نادرا کے چیئرمین طارق ملک کی برطرفی سے ہو ا جس کا جرم
یہ تھا کہ اس نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر
ووٹر لسٹوں میں ووٹروں کے انگوٹھوں کی ویریفیکیشن کا عمل شروع کیا تو معلوم
ہوا کہ ہزاروں کی تعداد میں انگوٹھوں کے نشانات نادرا کے ریکارڈ سے میچ ہی نہیں
کرتے۔ اس کے بعد پیمرا کے چیرمیئن کو کرپشن کے الزامات کی بنا پر برطرف کیا اور اس کے ساتھ ہی دیگر اداروں کے سربراہان کو برطرف کرنے
کا سلسلہ شروع کر دیا جن میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان، اٹارنی جنرل آف پاکستان،
گورنر اسٹیٹ بنک کے علاوہ کرکٹ بورڈ کے
سابق چیئرمین جناب ذکا اشرف بھی اس کی زد میں آۓ۔ان میں سے کچھ سربرہان نے عدالت
عالیہ سے رجوع کیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان افسران کی برطرفیوں کو غیر
قانونی قرار دیتے ہوۓ ان کو اپنے عہدوں پر بحال کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ۔
اصول اور صرف اصول اور میرٹ اور صرف میرٹ کی رٹ لگانے والی جماعت کے ان اصولوں اور
میرٹ کی کلی عدلت عالیہ نے عوام کے سامنے
کھول کے رکھ دی۔ لیکن حکومت نے اس کے باوجود اداروں کے سربراہوں کے ساتھ پنگے لینے
کا کھیل ابھی تک جاری رکھا ہوا ہے اور چیئرمین نادرا حکومتی دباو کو برداشت نا کر
سکے اور خود ہی بعد میں استعفی دے دیا
جبکہ دیگر بحال ہونے والے افسران پہ تا
حال حکومتی انتقام کی ننگی تلوار سر پہ لٹک رہی ہے۔ کچھ دن قبل عدالت کے حکم پر بحال ہو نے والے چیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ذکاء اشرف جس نے بگ تھری سازش کے خلاف اصولی اور عوامی موقف اختیار کرتے ہو ۓ پاکستان
کی عزت اور وقار میں اضافہ کیا۔ حالانکہ اسے بگ تھری کی حمایت کے بدلے میں
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی صدارت کی بیشکش بھی کی گئی جسے اس نے ٹھکرا دیا تھا۔ اس
احسن اقدام کے بعد جیسے ہی وطن واپس لوٹے تو میرٹ اور اصولوں کے ترجمان وزیر اعظم
پاکستان جناب نوار شریف نے بگ تھری کے
خلاف موقف اختیار کرنے پر ایک داد تحسین کچھ اس طرح دی کہ چیئرمین ذکاء اشرف سمیت پورے کرکٹ بورڈ کو ہی تحلیل کر دیا اور عدلیہ کے
حالیہ فیصلے پر زور دار تھپڑ رسید کیا اور اس عظیم اقدام پر جذباتی پاکستانی قوم بے ساختہ پکار اٹھی کہ میرٹ ہو تو ایسا اور اصول ہو تو ایسا۔

No comments:
Post a Comment